درد نگر

اس بے مقصد سے جیون سے
اس دل کے ٹوٹے ٹکڑوں سے
اس خواب نگر کی گلیوں سے
بن روئے ہر اک آنسو سے
سب درد بھرے ان لمحوں سے
میں ہار چلی سب وار چلی۔۔
اب خواب سجائے جائیں گے
نہ پیار کے دیس ہی جائیں گے
باتیں ہوں گی چپ سادھ کے اب
الفاظ نہ اب کہہ پائیں گے۔۔
یہ درد کوئی جو سہہ جائے
اور بعد میں زندہ رہ جائے
ان ٹوٹے پھوٹے لوگوں کا
اک فرقہ سا گر بن جائے
تو نام میرا بھی لے جانا
اس فرقے میں لکھوا آنا۔۔۔

2 Likes

Bhoot ummda

Shukriya sir

2 Likes